حیا سے سر جھکا لینا ادا سے مسکرا دینا

Toggle stanza 1
حیا سے سر جھکا لینا ادا سے مسکرا دینا
1

حیا سے سر جھکا لینا ادا سے مسکرا دینا

حسینوں کو بھی کتنا سہل ہے بجلی گرا دینا

2

یہ طرز احسان کرنے کا تمہیں کو زیب دیتا ہے

مرض میں مبتلا کر کے مریضوں کو دوا دینا

3

بلائیں لیتے ہیں ان کی ہم ان پر جان دیتے ہیں

یہ سودا دید کے قابل ہے کیا لینا ہے کیا دینا

4

خدا کی یاد میں محویت دل بادشاہی ہے

مگر آساں نہیں ہے ساری دنیا کو بھلا دینا

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…