ختم کیا صبا نے رقص گل پہ نثار ہو چکی

Toggle stanza 1
ختم کیا صبا نے رقص گل پہ نثار ہو چکی
1

ختم کیا صبا نے رقص گل پہ نثار ہو چکی

جوش نشاط ہو چکا صوت ہزار ہو چکی

2

رنگ بنفشہ مٹ گیا سنبل تر نہیں رہا

صحن چمن میں زینت نقش و نگار ہو چکی

3

مستی لالہ اب کہاں اس کا پیالہ اب کہاں

دور طرب گزر گیا آمد یار ہو چکی

4

رت وہ جو تھی بدل گئی آئی بس اور نکل گئی

تھی جو ہوا میں نکہت مشک تتار ہو چکی

5

اب تک اسی روش پہ ہے اکبرؔ مست و بے خبر

کہہ دے کوئی عزیز من فصل بہار ہو چکی

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…