حلقے نہیں ہیں زلف کے حلقے ہیں جال کے

Toggle stanza 1
حلقے نہیں ہیں زلف کے حلقے ہیں جال کے
1

حلقے نہیں ہیں زلف کے حلقے ہیں جال کے

ہاں اے نگاہ شوق ذرا دیکھ بھال کے

2

پہنچے ہیں تا کمر جو ترے گیسوئے رسا

معنی یہ ہیں کمر بھی برابر ہے بال کے

3

بوس و کنار و وصل حسیناں ہے خوب شغل

کمتر بزرگ ہوں گے خلاف اس خیال کے

4

قامت سے تیرے صانع قدرت نے اے حسیں

دکھلا دیا ہے حشر کو سانچے میں ڈھال کے

5

شان دماغ عشق کے جلوے سے یہ بڑھی

رکھتا ہے ہوش بھی قدم اپنے سنبھال کے

6

زینت مقدمہ ہے مصیبت کا دہر میں

سب شمع کو جلاتے ہیں سانچے میں ڈھال کے

7

ہستی کے حق کے سامنے کیا اصل این و آں

پتلے یہ سب ہیں آپ کے وہم و خیال کے

8

تلوار لے کے اٹھتا ہے ہر طالب فروغ

دور فلک میں ہیں یہ اشارے ہلال کے

9

پیچیدہ زندگی کے کرو تم مقدمے

دکھلا ہی دے گی موت نتیجہ نکال کے

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…