جو تمہارے لب جاں بخش کا شیدا ہوگا
Toggle stanza 1جو تمہارے لب جاں بخش کا شیدا ہوگا
11
جو تمہارے لب جاں بخش کا شیدا ہوگا
اٹھ بھی جائے گا جہاں سے تو مسیحا ہوگا
22
وہ تو موسیٰ ہوا جو طالب دیدار ہوا
پھر وہ کیا ہوگا کہ جس نے تمہیں دیکھا ہوگا
33
قیس کا ذکر مرے شان جنوں کے آگے
اگلے وقتوں کا کوئی بادیہ پیما ہوگا
44
آرزو ہے مجھے اک شخص سے ملنے کی بہت
نام کیا لوں کوئی اللہ کا بندا ہوگا
55
لعل لب کا ترے بوسہ تو میں لیتا ہوں مگر
ڈر یہ ہے خون جگر بعد میں پینا ہوگا
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.
Loading…

