جو تمہارے لب جاں بخش کا شیدا ہوگا

Toggle stanza 1
جو تمہارے لب جاں بخش کا شیدا ہوگا
1

جو تمہارے لب جاں بخش کا شیدا ہوگا

اٹھ بھی جائے گا جہاں سے تو مسیحا ہوگا

2

وہ تو موسیٰ ہوا جو طالب دیدار ہوا

پھر وہ کیا ہوگا کہ جس نے تمہیں دیکھا ہوگا

3

قیس کا ذکر مرے شان جنوں کے آگے

اگلے وقتوں کا کوئی بادیہ پیما ہوگا

4

آرزو ہے مجھے اک شخص سے ملنے کی بہت

نام کیا لوں کوئی اللہ کا بندا ہوگا

5

لعل لب کا ترے بوسہ تو میں لیتا ہوں مگر

ڈر یہ ہے خون جگر بعد میں پینا ہوگا

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…