Book in this metre
This page shows only poems in the metre مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن (هزج مثمن اخرب مکفوف محذوف).
Bal-e-Jibril by Allama Iqbal, in the metre مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن (هزج مثمن اخرب مکفوف محذوف)
ہے یاد مجھے نکتۂ سلمانِ٭ خوش آہنگ
ہسپانیہ تُو خُونِ مسلماں کا امیں ہے
اے انفُس و آفاق میں پیدا ترے آیات
پروانے کی منزل سے بہت دُور ہے جُگنو
کھول آنکھ، زمیں دیکھ، فلک دیکھ، فضا دیکھ
اک رات ستاروں سے کہا نجمِ سحَر نے
اک مفلسِ خود دار یہ کہتا تھا خدا سے
دل زندہ و بیدار اگر ہو تو بتدریج
کہتے ہیں کبھی گوشت نہ کھاتا تھا معّری
حاضِر ہُوا میں شیخِ مجدّدؒ کی لحَد پر
اس کھیل میں تعیینِ مراتب ہے ضروری
کہتا تھا عزازیل خداوندِ جہاں سے
ہم کو تو میسّر نہیں مٹّی کا دِیا بھی
ہاروں نے کہا وقتِ رحِیل اپنے پِسر سے
جُرأت ہے تو افکار کی دنیا سے گزر جا
جو دُونیِ فطرت سے نہیں لائقِ پرواز