Toggle stanza 1
ہسپانیہ تُو خُونِ مسلماں کا امیں ہے
1

ہسپانیہ تُو خُونِ مسلماں کا امیں ہے

مانندِ حرم پاک ہے تُو میری نظر میں

2

پوشیدہ تری خاک میں سجدوں کے نشاں ہیں

خاموش اذانیں ہیں تری بادِ سحَر میں

3

روشن تھیں ستاروں کی طرح ان کی سنانیں

خیمے تھے کبھی جن کے ترے کوہ و کمر میں

4

پھر تیرے حسینوں کو ضرورت ہے حِنا کی؟

باقی ہے ابھی رنگ مرے خُونِ جگر میں!

5

کیونکر خس و خاشاک سے دب جائے مسلماں

مانا، وہ تب و تاب نہیں اس کے شرر میں

6

غرناطہ بھی دیکھا مری آنکھوں نے و لیکن

تسکینِ مسافر نہ سفر میں نہ حضَر میں

7

دیکھا بھی دِکھایا بھی، سُنایا بھی سُنا بھی

ہے دل کی تسلّی نہ نظر میں، نہ خبر میں!

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…