اذان
Toggle stanza 1اک رات ستاروں سے کہا نجمِ سحَر نے
اک رات ستاروں سے کہا نجمِ سحَر نے
آدم کو بھی دیکھا ہے کسی نے کبھی بیدار؟
کہنے لگا مرّیخ، ادا فہم ہے تقدیر
ہے نیند ہی اس چھوٹے سے فتنے کو سزاوار
زُہرہ نے کہا، اور کوئی بات نہیں کیا؟
اس کرمکِ شب کور سے کیا ہم کو سروکار!
بولا مہِ کامل کہ وہ کوکب ہے زمینی
تم شب کو نمودار ہو، وہ دن کو نمودار
واقف ہو اگر لذّتِ بیداریِ شب سے
اُونچی ہے ثُریّا سے بھی یہ خاکِ پُر اسرار
آغوش میں اس کی وہ تجلّی ہے کہ جس میں
کھو جائیں گے افلاک کے سب ثابت و سیّار
ناگاہ فضا بانگِ اذاں سے ہُوئی لبریز
وہ نعرہ کہ ہِل جاتا ہے جس سے دلِ کُہسار!
Zameen
Poems with the Same Metre and Rhyme
حاضِر ہُوا میں شیخِ مجدّدؒ کی لحَد پر
وہ خاک کہ ہے زیرِ فلک مطلعِ انوار
Allama IqbalBal-e-JibrilPoemsپنجاب کے پیرزادوں سے
اک مُرغِ سرا نے یہ کہا مُرغِ ہوا سے
پَردار اگر تُو ہے تو کیا مَیں نہیں پَردار!
Allama IqbalBang-e-Daraحصۂ سوم (1908ء سے) — نظمیںایک مکالمہ
سوچا بھی ہے اے مردِ مسلماں کبھی تُو نے
کیا چیز ہے فولاد کی شمشیرِ جگردار
Allama IqbalZarb-e-KalimIslam and the Muslimآزادیِ شمشیر کے اعلان پر
قوموں کی روِش سے مجھے ہوتا ہے یہ معلوم
بے سُود نہیں رُوس کی یہ گرمیِ رفتار
Allama IqbalZarb-e-KalimPolitics of East and Westاشتراکیّت
اقبالؔ کو شک اس کی شرافت میں نہیں ہے
ہر ملّتِ مظلوم کا یورپ ہے خریدار
Allama IqbalZarb-e-KalimPolitics of East and Westدامِ تہذیب
صُوفی کی طریقت میں فقط مستیِ احوال
مُلّا کی شریعت میں فقط مستیِ گُفتار
Allama IqbalZarb-e-KalimIslam and the Muslimمستیِ کردار
سب اپنے بنائے ہوئے زنداں میں ہیں محبوس
خاور کے ثوابِت ہوں کہ افرنگ کے سیّار
Allama IqbalZarb-e-KalimIslam and the Muslimمہدیِ برحق
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

