آج سر سبز کوہ و صحرا ہے

شاعر: ولیؔ دکنی

وزن: فاعلاتن مفاعلن فِعْلن (خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع)

قافیہ: ا

ردیف: ہے

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: غزل

Toggle stanza 1
آج سر سبز کوہ و صحرا ہے
1

آج سر سبز کوہ و صحرا ہے

ہر طرف سیر ہے تماشا ہے

2

چہرۂ یار و قامت زیبا

گل رنگین و سرو رعنا ہے

3

معنی حسن و معنی خوبی

صورت یار سوں ہویدا ہے

4

دم جاں بخش نو خطاں مج کوں

چشمۂ خضر ہے مسیحا ہے

5

کمر نازک و دہان صنم

فکر باریک ہے معما ہے

6

مو بہ مو اس کوں ہے پریشانی

زلف مشکیں کا جس کوں سودا ہے

7

کیا حقیقت ہے تجھ تواضع کی

یو تلطف ہے یا مداوا ہے

8

سبب دل ربائی عاشق

مہر ہے لطف ہے دلاسا ہے

9

جوں ولیؔ رات دن ہے محو خیال

جس کوں تجھ وصل کی تمنا ہے

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…