اگر گلشن طرف وو نو خط رنگیں ادا نکلے

Toggle stanza 1
اگر گلشن طرف وو نو خط رنگیں ادا نکلے
1

اگر گلشن طرف وو نو خط رنگیں ادا نکلے

گل و ریحاں سوں رنگ و بو شتابی پیشوا نکلے

2

کھلے ہر غنچۂ دل جیوں گل شاداب شادی سوں

اگر ٹک گھر سوں باہر وو بہار دل کشا نکلے

3

غنیم غم کیا ہے فوج بندی عشق بازاں پر

بجا ہے آج وو راجہ اگر نوبت بجا نکلے

4

نثار اس کے قدم اوپر کروں انجھواں کے گوہر سب

اگر کرنے کوں دل جوئی وو سرو خوش ادا نکلے

5

صنم آئے کروں گا نالۂ جاں سوز کوں ظاہر

مگر اس سنگ دل سوں مہربانی کی صدا نکلے

6

رہے مانند لعل بے بہا شاہاں کے تاج اوپر

محبت میں جو کوئی اسباب ظاہر کوں بہا نکلے

7

بخیلی درس کی ہرگز نہ کیجو اے پری پیکر

ولیؔ تیری گلی میں جب کہ مانند گدا نکلے

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…