بھڑکے ہے دل کی آتش تجھ نیہ کی ہوا سوں
Toggle stanza 1بھڑکے ہے دل کی آتش تجھ نیہ کی ہوا سوں
11
بھڑکے ہے دل کی آتش تجھ نیہ کی ہوا سوں
شعلہ نمط جلا دل تجھ حسن شعلہ زا سوں
22
گل کے چراغ گل ہو یک بار جھڑ پڑیں سب
مجھ آہ کی حکایت بولیں اگر صبا سوں
33
نکلی ہے جست کر کر ہر سنگ دل سوں آتش
چقماق جب پلک کی جھاڑا ہے توں ادا سوں
44
سجدہ بدل رکھے سر سر تا قدم عرق ہو
تجھ با حیا کے پگ پر آ کر حنا حیا سوں
55
یاں درد ہے پرم کا بیہودہ سر کہے مت
یہ بات سن ولیؔ کی جا کر کہو دوا سوں
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

