آج دستا ہے حال کچھ کا کچھ
شاعر: ولیؔ دکنی
Toggle stanza 1آج دستا ہے حال کچھ کا کچھ
11
آج دستا ہے حال کچھ کا کچھ
کیوں نہ گزرے خیال کچھ کا کچھ
22
دل بے دل کوں آج کرتی ہے
شوخ چنچل کی چال کچھ کا کچھ
33
مجکو لگتا ہے اے پری پیکر
آج تیرا جمال کچھ کا کچھ
44
اثر بادۂ جوانی ہے
کر گیا ہوں سوال کچھ کا کچھ
55
اے ولیؔ دل کوں آج کرتی ہے
بوئے باغ وصال کچھ کا کچھ
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

