باطل ہے ہم سے دعویٰ شاعر کو ہم سری کا
شاعر: مرزا محمد رفیع سوداؔ
Toggle stanza 1باطل ہے ہم سے دعویٰ شاعر کو ہم سری کا
11
باطل ہے ہم سے دعویٰ شاعر کو ہم سری کا
دیوان ہے ہمارا کیسہ جواہری کا
22
چہرہ ترا سا کب ہے سلطان خاوری کا
چیرہ ہزار باندھے سر پر جو وہ زری کا
33
منہ پر یہ گوشوارہ موتی کا جلوہ گر ہے
جیسے قران باہم ہو ماہ و مشتری کا
44
آئینہ خانے میں وہ جس وقت آن بیٹھے
پھر جس طرف کو دیکھو جلوہ ہے واں پری کا
55
جز شوق دل نہ پہنچوں ہرگز بہ کوئے جاناں
اے خضر کب ہوں تیری محتاج رہبری کا
66
جو دیکھتا ہے تجھ کو ہنستا ہے قہقہے مار
اے شیخ تیرا چہرہ مبدا ہے مسخری کا
77
طالب ہیں سیم و زر کے خوبان ہند سوداؔ
احوال کون سمجھے عاشق کی بے زری کا
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

