برہمن بت کدے کے شیخ بیت اللہ کے صدقے
شاعر: مرزا محمد رفیع سوداؔ
Toggle stanza 1برہمن بت کدے کے شیخ بیت اللہ کے صدقے
11
برہمن بت کدے کے شیخ بیت اللہ کے صدقے
کہیں ہیں جس کو سوداؔ وہ دل آگاہ کے صدقے
22
جتا دیں جس جگہ ہم قدر اپنی ناتوانی کی
اگر کہسار واں ہووے تو جاوے کاہ کے صدقے
33
نہ دے تکلیف جلنے کی کسو کے دل کو میرے پر
اثر سے دور رہتی ہیں میں اپنی آہ کے صدقے
44
عجائب شغل میں تھے رات تم اے شیخ رحمت ہے
میں اس ریش بلند اور دامن کوتاہ کے صدقے
55
نہیں بے وجہ کوچے سے ترے اٹھنا بگولے کا
ہماری خاک بھی جاتی ہے تیری راہ کے صدقے
66
کبھو وہ شب بھی اے پروانہ حق باہم دکھاوے گا
تو بل بل شمع پر جاوے میں ہوں اس ماہ کے صدقے
77
دکھاتی ہے تجھے کس کس طرح سوداؔ کی نظروں میں
جو ہو انصاف تو جاوے تو اس کی چاہ کے صدقے
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

