دامن صبا نہ چھو سکے جس شہ سوار کا
Toggle stanza 1دامن صبا نہ چھو سکے جس شہ سوار کا
دامن صبا نہ چھو سکے جس شہ سوار کا
پہنچے کب اس کو ہاتھ ہمارے غبار کا
موج نسیم آج ہے آلودہ گرد سے
دل خاک ہو گیا ہے کسی بے قرار کا
خون جگر شراب و ترشح ہے چشم تر
ساغر مرا گرو نہیں ابر بہار کا
چشم کرم سے عاشق وحشی اسیر ہو
الفت ہے دام آہوئے دل کے شکار کا
سونپا تھا کیا جنوں نے گریبان کو مرے
لیتا ہے اب حساب جو یہ تار تار کا
سوداؔ شراب عشق نہ کہتے تھے ہم، نہ پی
پایا مزا نہ تو نے اب اس کے خمار کا
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
جلوہ عیاں ہے قدرت پروردگار کا
کیا دل کشا یہ سین ہے فصل بہار کا
اکبر الہ آبادیغزلیاتجلوہ عیاں ہے قدرت پروردگار کا
ہنگامہ گرم ہستئ نا پائیدار کا
چشمک ہے برق کی کہ تبسم شرار کا
شیخ محمد ابراہیم ذوقغزلیاتہنگامہ گرم ہستئ نا پائیدار کا
کیا عشق ایک زندگیِ مستعار کا
کیا عشق پائدار سے ناپائدار کا
علامہ اقبالبالِ جبریلغزلیات — حصۂ اوّلکیا عشق ایک زندگیِ مستعار کا
سب حوصلہ جو صرف ہوا جورِ یار کا
مجھ پر گلہ رہا ستمِ روزگار کا
مصطفیٰ خان شیفتہغزلیاتسب حوصلہ جو صرف ہوا جورِ یار کا
سایہ اگر نصیب ہو دیوار یار کا
کیا مرتبہ بلند ہو اپنے مزار کا
یاس یگانہ چنگیزیغزلیاتسایہ اگر نصیب ہو دیوار یار کا
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

