دامن صبا نہ چھو سکے جس شہ سوار کا

Toggle stanza 1
دامن صبا نہ چھو سکے جس شہ سوار کا
1

دامن صبا نہ چھو سکے جس شہ سوار کا

پہنچے کب اس کو ہاتھ ہمارے غبار کا

2

موج نسیم آج ہے آلودہ گرد سے

دل خاک ہو گیا ہے کسی بے قرار کا

3

خون جگر شراب و ترشح ہے چشم تر

ساغر مرا گرو نہیں ابر بہار کا

4

چشم کرم سے عاشق وحشی اسیر ہو

الفت ہے دام آہوئے دل کے شکار کا

5

سونپا تھا کیا جنوں نے گریبان کو مرے

لیتا ہے اب حساب جو یہ تار تار کا

6

سوداؔ شراب عشق نہ کہتے تھے ہم، نہ پی

پایا مزا نہ تو نے اب اس کے خمار کا

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…