جلوہ عیاں ہے قدرت پروردگار کا
Toggle stanza 1جلوہ عیاں ہے قدرت پروردگار کا
جلوہ عیاں ہے قدرت پروردگار کا
کیا دل کشا یہ سین ہے فصل بہار کا
نازاں ہیں جوش حسن پہ گل ہائے دل فریب
جوبن دکھا رہا ہے یہ عالم ابھار کا
ہیں دیدنی بنفشہ و سنبل کے پیچ و تاب
نقشہ کھینچا ہوا ہے خط و زلف یار کا
سبزہ ہے یا یہ آب زمرد کی موج ہے
شبنم ہے بحر یا گہر آبدار کا
مرغان باغ زمزمہ سنجی میں محو ہیں
اور ناچ ہو رہا ہے نسیم بہار کا
پرواز میں ہیں تیتریاں شاد و چست و مست
زیب بدن کیے ہوئے خلعت بہار کا
موج ہوا و زمزمۂ عندلیب مست
اک ساز دلنواز ہے مضراب و تار کا
ابر تنک نے رونق موسم بڑھائی ہے
غازہ بنا ہے روئے عروس بہار کا
افسوس اس سماں میں بھی اکبرؔ اداس ہے
سوہان روح ہجر ہے اک گل عذار کا
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
ہنگامہ گرم ہستئ نا پائیدار کا
چشمک ہے برق کی کہ تبسم شرار کا
شیخ محمد ابراہیم ذوقغزلیاتہنگامہ گرم ہستئ نا پائیدار کا
کیا عشق ایک زندگیِ مستعار کا
کیا عشق پائدار سے ناپائدار کا
علامہ اقبالبالِ جبریلغزلیات — حصۂ اوّلکیا عشق ایک زندگیِ مستعار کا
دامن صبا نہ چھو سکے جس شہ سوار کا
پہنچے کب اس کو ہاتھ ہمارے غبار کا
مرزا محمد رفیع سوداغزلیاتدامن صبا نہ چھو سکے جس شہ سوار کا
سب حوصلہ جو صرف ہوا جورِ یار کا
مجھ پر گلہ رہا ستمِ روزگار کا
مصطفیٰ خان شیفتہغزلیاتسب حوصلہ جو صرف ہوا جورِ یار کا
سایہ اگر نصیب ہو دیوار یار کا
کیا مرتبہ بلند ہو اپنے مزار کا
یاس یگانہ چنگیزیغزلیاتسایہ اگر نصیب ہو دیوار یار کا
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

