جلوہ عیاں ہے قدرت پروردگار کا

Toggle stanza 1
جلوہ عیاں ہے قدرت پروردگار کا
1

جلوہ عیاں ہے قدرت پروردگار کا

کیا دل کشا یہ سین ہے فصل بہار کا

2

نازاں ہیں جوش حسن پہ گل ہائے دل فریب

جوبن دکھا رہا ہے یہ عالم ابھار کا

3

ہیں دیدنی بنفشہ و سنبل کے پیچ و تاب

نقشہ کھینچا ہوا ہے خط و زلف یار کا

4

سبزہ ہے یا یہ آب زمرد کی موج ہے

شبنم ہے بحر یا گہر آبدار کا

5

مرغان باغ زمزمہ سنجی میں محو ہیں

اور ناچ ہو رہا ہے نسیم بہار کا

6

پرواز میں ہیں تیتریاں شاد و چست و مست

زیب بدن کیے ہوئے خلعت بہار کا

7

موج ہوا و زمزمۂ عندلیب مست

اک ساز دلنواز ہے مضراب و تار کا

8

ابر تنک نے رونق موسم بڑھائی ہے

غازہ بنا ہے روئے عروس بہار کا

9

افسوس اس سماں میں بھی اکبرؔ اداس ہے

سوہان روح ہجر ہے اک گل عذار کا

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…