دشمن کو بھی دے خدا نہ اولاد کا داغ
Toggle stanza 1دشمن کو بھی دے خدا نہ اولاد کا داغ
11
دشمن کو بھی دے خدا نہ اولاد کا داغ
جاتا نہیں ہرگز دل ناشاد کا داغ
22
فرماتے تھے رو کے لاش قاسم پہ حسین
اولاد سے کم نہیں ہے داماد کا داغ
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

