میر ببر علی انیسؔ

شاعر

میر ببر علی انیسؔ

1803 — 1874عیسوی

میر ببر علی انیسؔ اردو مرثیے کے سب سے بڑے کلاسیکی استادوں میں شمار ہوتے ہیں۔ فیض آباد کے ایک ممتاز شاعر خاندان میں پیدا ہوئے۔ والد میر خلیقؔ اور دادا میر حسنؔ سے بھرپور ادبی روایت ورثے میں ملی۔ بعد میں لکھنؤ میں مقیم ہوئے، جہاں مجلس اور مرثیہ خوانی کی تہذیب نے ان کے فن کو عروج تک پہنچایا۔

انیسؔ نے مرثیے کو ایک وسیع ڈرامائی صنف بنا دیا۔ واقعۂ کربلا پر ان کی طویل نظموں میں رواں بیانیہ، کردار نگاری، مکالمہ، رزم کی منظر کشی، اخلاقی فکر اور گہرا جذبۂ غم یکجا ہو جاتے ہیں۔ زبان اور پیکر تراشی پر قدرت کے باعث وہ گھریلو شفقت اور میدانِ جنگ کی شجاعت دونوں کو یکساں تاثیر سے پیش کرتے ہیں، جبکہ ان کی مرثیہ خوانی نے تحریری متن کو بھرپور اجتماعی زندگی بخشی۔

انہوں نے سلام، رباعی اور کچھ غزلیں بھی کہیں، مگر ان کا سب سے بڑا کارنامہ رثائی شاعری کو اردو ادب کی بلند ترین فنی صورتوں میں شامل کرنا ہے۔ ان کی لسانی وسعت، منظر آفرینی اور شجاعت و اندوہ کی انسانی تصویر کشی آج بھی مرثیے کی روایت پر اثر انداز ہے۔

کلام

صنف

اصناف

وزن

اوزان