دکھ میں ہر شب کراہتا ہوں یارب

Toggle stanza 1
دکھ میں ہر شب کراہتا ہوں یارب
1

دکھ میں ہر شب کراہتا ہوں یارب

اب زیست کے دن نباہتا ہوں یارب

2

طالب زر و مال کے ہیں سب دنیا میں

میں تجھ سے تجھی کو چاہتا ہوں یارب

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…