دکھ میں ہر شب کراہتا ہوں یارب
Toggle stanza 1دکھ میں ہر شب کراہتا ہوں یارب
11
دکھ میں ہر شب کراہتا ہوں یارب
اب زیست کے دن نباہتا ہوں یارب
22
طالب زر و مال کے ہیں سب دنیا میں
میں تجھ سے تجھی کو چاہتا ہوں یارب
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

