نصیحت
Toggle stanza 1کرے دشمنی کوئی تم سے اگر
11
کرے دشمنی کوئی تم سے اگر
جہاں تک بنے تم کرو درگزر
22
کرو تم نہ حاسد کی باتوں پہ غور
جلے جو کوئی اس کو جلنے دو اور
33
اگر تم سے ہو جائے سرزد قصور
تو اقرار و توبہ کرو بالضرور
44
بدی کی ہو جس نے تمہارے خلاف
جو چاہے معافی تو کر دو معاف
55
نہیں، بلکہ تم اور احساں کرو
بھلائی سے اس کو پشیماں کرو
66
ہے شرمندگی اس کے دل کا علاج
سزا اور ملامت کی کیا احتیاج
77
بھلائی کرو تو کرو بے غرض
غرض کی بھلائی تو ہے اک مرض
88
جو محتاج مانگے تو دو تم ادھار
رہو واپسی کے نہ امیدوار
99
جو تم کو خدا نے دیا ہے تو دو
نہ خست کرو اس میں جو ہو سو ہو
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

