نظمیں
اتفاقا ایک پودا اور گھاس
اک مسافر اپنی دھن میں تھا رواں
ایک بچہ کہ ابھی کچھ اسے تمییز نہ تھی
ایک کچھوے کے آ گئی جی میں
ایک لڑکی بگھارتی ہے دال
بنایا ہے چڑیوں نے جو گھونسلہ
تھی شام قریب اور دہقاں
چاندی کی انگوٹھی پہ جو سونے کا چڑھا جھول
خبر دن کے آنے کی میں لا رہی ہوں
دو تین چھوٹے بچے چڑیا کے گھونسلے میں
رب کا شکر ادا کر بھائی
رہا وہ جرگہ جسے چر گئی ہے انگریزی
شفق پھولنے کی بھی دیکھو بہار
کرے دشمنی کوئی تم سے اگر
گھنگھور گھٹا تلی کھڑی تھی
گیا دن ہوئی شام آئی ہے رات
لق و دق صحرا میں یا میدان میں
مئی کا آن پہنچا ہے مہینہ
نہر پر چل رہی ہے پن چکی
وہ بارگہ خاص کی پاکیزہ عمارت
وہ دیکھو اٹھی کالی کالی گھٹا
ہونے کو آئی صبح تو ٹھنڈی ہوا چلی
ہے کام کے وقت کام اچھا
سناؤں تمہیں بات اک رات کی
صنف
وزن