Toggle stanza 1
ہونے کو آئی صبح تو ٹھنڈی ہوا چلی
1

ہونے کو آئی صبح تو ٹھنڈی ہوا چلی

کیا دھیمی دھیمی چال سے یہ خوش ادا چلی

2

لہرا دیا ہے کھیت کو ہلتی ہیں بالیاں

پودے بھی جھومتے ہیں لچکتی ہیں ڈالیاں

3

پھلواریوں میں تازہ شگوفے کھلا چلی

سویا ہوا تھا سبزہ اسے تو جگا چلی

4

سر سبز ہوں درخت نہ باغوں میں تجھ بغیر

تیرے ہی دم قدم سے ہے بھاتی چمن کی سیر

5

پڑ جائے اس جہان میں تیری اگر کمی

چوپایہ کوئی زندہ بچے اور نہ آدمی

6

چڑیوں کو یہ اڑان کی طاقت کہاں رہے

پھر کائیں کائیں ہو نہ غٹرغوں نہ چہچہے

7

بندوں کو چاہیے کہ کریں بندگی ادا

اس کی کہ جس کے حکم سے چلتی ہے یہ سدا

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…