ہوا چلی
Poet: Ismail Meeruthi
Metre: مفعول فاعلاتُ مفاعیل فاعلن (مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف)
Poetic form: Nazm
Toggle stanza 1ہونے کو آئی صبح تو ٹھنڈی ہوا چلی
11
ہونے کو آئی صبح تو ٹھنڈی ہوا چلی
کیا دھیمی دھیمی چال سے یہ خوش ادا چلی
22
لہرا دیا ہے کھیت کو ہلتی ہیں بالیاں
پودے بھی جھومتے ہیں لچکتی ہیں ڈالیاں
33
پھلواریوں میں تازہ شگوفے کھلا چلی
سویا ہوا تھا سبزہ اسے تو جگا چلی
44
سر سبز ہوں درخت نہ باغوں میں تجھ بغیر
تیرے ہی دم قدم سے ہے بھاتی چمن کی سیر
55
پڑ جائے اس جہان میں تیری اگر کمی
چوپایہ کوئی زندہ بچے اور نہ آدمی
66
چڑیوں کو یہ اڑان کی طاقت کہاں رہے
پھر کائیں کائیں ہو نہ غٹرغوں نہ چہچہے
77
بندوں کو چاہیے کہ کریں بندگی ادا
اس کی کہ جس کے حکم سے چلتی ہے یہ سدا
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.
Loading…

