Toggle stanza 1
کرے دشمنی کوئی تم سے اگر
1

کرے دشمنی کوئی تم سے اگر

جہاں تک بنے تم کرو درگزر

2

کرو تم نہ حاسد کی باتوں پہ غور

جلے جو کوئی اس کو جلنے دو اور

3

اگر تم سے ہو جائے سرزد قصور

تو اقرار و توبہ کرو بالضرور

4

بدی کی ہو جس نے تمہارے خلاف

جو چاہے معافی تو کر دو معاف

5

نہیں، بلکہ تم اور احساں کرو

بھلائی سے اس کو پشیماں کرو

6

ہے شرمندگی اس کے دل کا علاج

سزا اور ملامت کی کیا احتیاج

7

بھلائی کرو تو کرو بے غرض

غرض کی بھلائی تو ہے اک مرض

8

جو محتاج مانگے تو دو تم ادھار

رہو واپسی کے نہ امیدوار

9

جو تم کو خدا نے دیا ہے تو دو

نہ خست کرو اس میں جو ہو سو ہو

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…