شفق
Toggle stanza 1شفق پھولنے کی بھی دیکھو بہار
11
شفق پھولنے کی بھی دیکھو بہار
ہوا میں کھلا ہے عجب لالہ زار
22
ہوئی شام بادل بدلتے ہیں رنگ
جنہیں دیکھ کر عقل ہوتی ہے دنگ
33
نیا رنگ ہے اور نیا روپ ہے
ہر ایک روپ میں یہ وہی دھوپ ہے
44
طبیعت ہے بادل کی رنگت پہ لوٹ
سنہری لگائی ہے قدرت نے گوٹ
55
ذرا دیر میں رنگ بدلے کئی
بنفشی و نارنجی و چنپئی
66
یہ کیا بھید ہے، کیا کرامات ہے
ہر اک رنگ میں اک نئی بات ہے
77
یہ مغرب میں جو بادلوں کی ہے باڑ
بنے سونے چاندی کے گویا پہاڑ
88
فلک نیلگوں اس میں سرخی کی لاگ
ہرے بن میں گویا لگا دی ہے آگ
99
اب آثار ظاہر ہوئے رات کے
کہ پردے چھٹے لال بانات کے
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.
Loading…

