Toggle stanza 1
شفق پھولنے کی بھی دیکھو بہار
1

شفق پھولنے کی بھی دیکھو بہار

ہوا میں کھلا ہے عجب لالہ زار

2

ہوئی شام بادل بدلتے ہیں رنگ

جنہیں دیکھ کر عقل ہوتی ہے دنگ

3

نیا رنگ ہے اور نیا روپ ہے

ہر ایک روپ میں یہ وہی دھوپ ہے

4

طبیعت ہے بادل کی رنگت پہ لوٹ

سنہری لگائی ہے قدرت نے گوٹ

5

ذرا دیر میں رنگ بدلے کئی

بنفشی و نارنجی و چنپئی

6

یہ کیا بھید ہے، کیا کرامات ہے

ہر اک رنگ میں اک نئی بات ہے

7

یہ مغرب میں جو بادلوں کی ہے باڑ

بنے سونے چاندی کے گویا پہاڑ

8

فلک نیلگوں اس میں سرخی کی لاگ

ہرے بن میں گویا لگا دی ہے آگ

9

اب آثار ظاہر ہوئے رات کے

کہ پردے چھٹے لال بانات کے

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…