آنے اٹک اٹک کے لگی سانس رات سے
Toggle stanza 1آنے اٹک اٹک کے لگی سانس رات سے
11
آنے اٹک اٹک کے لگی سانس رات سے
اب ہے امید صرف خدا ہی کی ذات سے
22
ساقی ہوائے سرد کو تو سرسری نہ جان
کیفیت اس کی پوچھ نبات نبات سے
33
اپنا صنم وہ قہر ہے اے برہمن کہ گر
دیکھے منات کو تو گرا دیوے لات سے
44
کل سے تو اختلاط میں تازہ ہے اختراع
رکنے لگی ہیں آپ مری بات بات سے
55
پیش آئیے بشفقت و لطف اس سے شیخ جی
نبت العنب کو جانئے اپنے نبات سے
66
حاصل کیا جو ہم نے قدم بوس پیر دیر
آئی صدائے عشق در سومنات سے
77
ہیں واجب الوجود کے انوار عشق میں
اس کی صفات ذات نہیں ممکنات سے
88
اشعار طبع زاد مری سن کے شوخ وہ
کہنے لگا کہ فائدہ اس مہملات سے
99
مطلق ملا کے آنکھ ادھر دیکھتے نہیں
آتے نظر ہو آج بھی کم التفات سے
1010
انشاؔ نے آ لگا ہی لیا تم کو بات میں
ظالم وہ چوکتا ہے کوئی اپنی گھات سے
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

