آنے اٹک اٹک کے لگی سانس رات سے

Toggle stanza 1
آنے اٹک اٹک کے لگی سانس رات سے
1

آنے اٹک اٹک کے لگی سانس رات سے

اب ہے امید صرف خدا ہی کی ذات سے

2

ساقی ہوائے سرد کو تو سرسری نہ جان

کیفیت اس کی پوچھ نبات نبات سے

3

اپنا صنم وہ قہر ہے اے برہمن کہ گر

دیکھے منات کو تو گرا دیوے لات سے

4

کل سے تو اختلاط میں تازہ ہے اختراع

رکنے لگی ہیں آپ مری بات بات سے

5

پیش آئیے بشفقت و لطف اس سے شیخ جی

نبت العنب کو جانئے اپنے نبات سے

6

حاصل کیا جو ہم نے قدم‌ بوس پیر دیر

آئی صدائے عشق در سومنات سے

7

ہیں واجب الوجود کے انوار عشق میں

اس کی صفات ذات نہیں ممکنات سے

8

اشعار طبع زاد مری سن کے شوخ وہ

کہنے لگا کہ فائدہ اس مہملات سے

9

مطلق ملا کے آنکھ ادھر دیکھتے نہیں

آتے نظر ہو آج بھی کم التفات سے

10

انشاؔ نے آ لگا ہی لیا تم کو بات میں

ظالم وہ چوکتا ہے کوئی اپنی گھات سے

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…