ہنر سے نیاریوں کے حال یہ ظاہر ہوا ہم کو

Toggle stanza 1
ہنر سے نیاریوں کے حال یہ ظاہر ہوا ہم کو
1

ہنر سے نیاریوں کے حال یہ ظاہر ہوا ہم کو

مقدر میں جو دولت ہو تو زر ہو خاک سے پیدا

2

سحر سے شام تک چلتی ہیں لاتیں وصل کی شب میں

محبت کی ہے کس گستاخ کس بیباک سے پیدا

3

کیا ہے اپنے غنچے سے دہن میں تونے جو اس کو

شمیم گل ہوئی ہے ریشہ مسواک سے پیدا

4

عزیز از جان نہ رکھیں داغ زلف و خط کیوں کر

یہ گل ہم نے کیے ہیں کس خس و خاشاک سے پیدا

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…