ہمیشہ جوش گریہ سے رہا پانی میں اے آتش
Toggle stanza 1ہمیشہ جوش گریہ سے رہا پانی میں اے آتش
11
ہمیشہ جوش گریہ سے رہا پانی میں اے آتش
کبھی تازہ نہ لیکن اپنے دل کا یہ کنول پایا
22
مری آنکھوں کے آگے آئے گا کیا جوش میں دریا
ہمیشہ صورت ساحل ہے یاں آغوش میں دریا
33
وہ حد کم ظرف ہیں جو ایک ساغر میں بہکتے ہیں
نہیں قطہ بھی یاں ہنگام نوشا نوش میں دریا
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

