ہمیشہ جوش گریہ سے رہا پانی میں اے آتش

Toggle stanza 1
ہمیشہ جوش گریہ سے رہا پانی میں اے آتش
1

ہمیشہ جوش گریہ سے رہا پانی میں اے آتش

کبھی تازہ نہ لیکن اپنے دل کا یہ کنول پایا

2

مری آنکھوں کے آگے آئے گا کیا جوش میں دریا

ہمیشہ صورت ساحل ہے یاں آغوش میں دریا

3

وہ حد کم ظرف ہیں جو ایک ساغر میں بہکتے ہیں

نہیں قطہ بھی یاں ہنگام نوشا نوش میں دریا

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…