ان کے اک جاں نثار ہم بھی ہیں
شاعر: نواب مرزا داغؔ دہلوی
Toggle stanza 1ان کے اک جاں نثار ہم بھی ہیں
ان کے اک جاں نثار ہم بھی ہیں
ہیں جہاں سو ہزار ہم بھی ہیں
تم بھی بے چین ہم بھی ہیں بے چین
تم بھی ہو بے قرار ہم بھی ہیں
اے فلک کہہ تو کیا ارادہ ہے
عیش کے خواست گار ہم بھی ہیں
کھینچ لائے گا جذب دل ان کو
ہمہ تن انتظار ہم بھی ہیں
بزم دشمن میں لے چلا ہے دل
کیسے بے اختیار ہم بھی ہیں
شہر خالی کئے دکاں کیسی
ایک ہی بادہ خوار ہم بھی ہیں
شرم سمجھے ترے تغافل کو
واہ کیا ہوشیار ہم بھی ہیں
ہاتھ ہم سے ملاؤ اے موسیٰ
عاشق روئے یار ہم بھی ہیں
خواہش بادۂ طہور نہیں
کیسے پرہیزگار ہم بھی ہیں
تم اگر اپنی گوں کے ہو معشوق
اپنے مطلب کے یار ہم بھی ہیں
جس نے چاہا پھنسا لیا ہم کو
دلبروں کے شکار ہم بھی ہیں
آئی مے خانے سے یہ کس کی صدا
لاؤ یاروں کے یار ہم بھی ہیں
لے ہی تو لے گی دل نگاہ تری
ہر طرح ہوشیار ہم بھی ہیں
ادھر آ کر بھی فاتحہ پڑھ لو
آج زیر مزار ہم بھی ہیں
غیر کا حال پوچھئے ہم سے
اس کے جلسے کے یار ہم بھی ہیں
کون سا دل ہے جس میں داغؔ نہیں
عشق میں یادگار ہم بھی ہیں
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

