شاعر
نواب مرزا داغؔ دہلوی
نواب مرزا داغؔ دہلوی اردو غزل کے مقبول ترین استادوں میں شمار ہوتے ہیں۔ دہلی میں پیدا ہوئے، نوجوانی کا ایک حصہ لال قلعے میں گزارا، اور ذوقؔ سے شاعری کی اصلاح لی۔ 1857ء کے ہنگامے کے بعد رامپور اور پھر حیدرآباد میں قیام کیا، جہاں نظام کے دربار میں انہیں بڑی عزت اور سرپرستی حاصل ہوئی۔
داغؔ کی غزل محاورے کی صفائی، گفتگو کی بے تکلفی، شوخی، جذبات کی حرارت اور عشق کے پراعتماد بیان کے لیے معروف ہے۔ انہوں نے ثقیل فارسی آمیز زبان کے بجائے دہلی کی شستہ بول چال کو ترجیح دی اور اس محاورے کو جدید اردو شاعری تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کا براہِ راست اور یاد رہ جانے والا اسلوب اہلِ ادب کے ساتھ گانے والوں میں بھی بے حد مقبول ہوا۔
استاد کی حیثیت سے داغؔ کا اثر غیر معمولی تھا۔ برصغیر کے مختلف علاقوں سے ہزاروں شاگردوں نے ان سے اصلاح لی اور اگلی ادبی نسل کی تشکیل میں حصہ لیا۔

