اول تو رہے دور وہ نالوں سے ہمارے
شاعر: نواب مرزا داغؔ دہلوی
Toggle stanza 1اول تو رہے دور وہ نالوں سے ہمارے
11
اول تو رہے دور وہ نالوں سے ہمارے
پاس آئے تو گھبرائے سوالوں سے ہمارے
22
یہ کہتے ہیں بلبل سے وہ گل ہاتھ میں لے کر
تو دیکھ ملا کر اسے گالوں سے ہمارے
33
کیا برہنہ پا دشت میں لاکھوں بھی نہ ہوں گے
کانٹوں کو مگر چھیڑ ہے چھالوں سے ہمارے
44
ہر وقت نئی دھن ہے ہمیں تازہ تصور
جاؤ گے کہاں بچ کے خیالوں سے ہمارے
55
کہتی ہیں وہ آنکھیں صف مژگاں کو بڑھا کر
ہے کون جو روکش ہو رسالوں سے ہمارے
66
اے داغؔ فلک دشمن ارباب ہنر ہے
ظالم کو خبر ہو نہ کمالوں سے ہمارے
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

