اول تو رہے دور وہ نالوں سے ہمارے

Toggle stanza 1
اول تو رہے دور وہ نالوں سے ہمارے
1

اول تو رہے دور وہ نالوں سے ہمارے

پاس آئے تو گھبرائے سوالوں سے ہمارے

2

یہ کہتے ہیں بلبل سے وہ گل ہاتھ میں لے کر

تو دیکھ ملا کر اسے گالوں سے ہمارے

3

کیا برہنہ پا دشت میں لاکھوں بھی نہ ہوں گے

کانٹوں کو مگر چھیڑ ہے چھالوں سے ہمارے

4

ہر وقت نئی دھن ہے ہمیں تازہ تصور

جاؤ گے کہاں بچ کے خیالوں سے ہمارے

5

کہتی ہیں وہ آنکھیں صف مژگاں کو بڑھا کر

ہے کون جو روکش ہو رسالوں سے ہمارے

6

اے داغؔ فلک دشمن ارباب ہنر ہے

ظالم کو خبر ہو نہ کمالوں سے ہمارے

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…