گالیاں تنخواہ ٹھہری ہے اگر بٹ جائے گی

Toggle stanza 1
گالیاں تنخواہ ٹھہری ہے اگر بٹ جائے گی
1

گالیاں تنخواہ ٹھہری ہے اگر بٹ جائے گی

عاشقوں کے گھر مٹھائی لب شکر بٹ جائے گی

2

روبرو گر ہوگا یوسف اور تو آ جائے گا

اس کی جانب سے زلیخا کی نظر بٹ جائے گی

3

رہزنوں میں ناز و غمزہ کی یہ جنس دین و دل

جوں متاع بردہ آخر ہم دگر بٹ جائے گی

4

ہوگا کیا گر بول اٹھے غیر باتوں میں مری

پھر طبیعت میری اے بیداد گر بٹ جائے گی

5

دولت دنیا نہیں جانے کی ہرگز تیرے ساتھ

بعد تیرے سب یہیں اے بے خبر بٹ جائے گی

6

کر لے اے دل جان کو بھی رنج و غم میں تو شریک

یہ جو محنت تجھ پہ ہے کچھ کچھ مگر بٹ جائے گی

7

مونگ چھاتی پہ جو دلتے ہیں کسی کی دیکھنا

جوتیوں میں دال ان کی اے ظفرؔ بٹ جائے گی

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…