کیونکہ ہم دنیا میں آئے کچھ سبب کھلتا نہیں

Toggle stanza 1
کیونکہ ہم دنیا میں آئے کچھ سبب کھلتا نہیں
1

کیونکہ ہم دنیا میں آئے کچھ سبب کھلتا نہیں

اک سبب کیا بھید واں کا سب کا سب کھلتا نہیں

2

پوچھتا ہے حال بھی گر وہ تو مارے شرم کے

غنچۂ تصویر کے مانند لب کھلتا نہیں

3

شاہد مقصود تک پہنچیں گے کیونکر دیکھیے

بند ہے باب تمنا ہے غضب کھلتا نہیں

4

بند ہے جس خانۂ زنداں میں دیوانہ تیرا

اس کا دروازہ پری رو روز و شب کھلتا نہیں

5

دل ہے یہ غنچہ نہیں ہے اس کا عقدہ اے صبا

کھولنے کا جب تلک آوے نہ ڈھب کھلتا نہیں

6

عشق نے جن کو کیا خاطر گرفتہ ان کا دل

لاکھ ہووے گرچہ سامان طرب کھلتا نہیں

7

کس طرح معلوم ہووے اس کے دل کا مدعا

مجھ سے باتوں میں ظفرؔ وہ غنچہ لب کھلتا نہیں

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…