طلب ہیں عشقِ بتاں میں جو آبرو کرتے
Toggle stanza 1طلب ہیں عشقِ بتاں میں جو آبرو کرتے
طلب ہیں عشقِ بتاں میں جو آبرو کرتے
ظفر ہیں آگ سے پانی کی آرزو کرتے
اشارا اپنے جو ابرو کا وہ کبھو کرتے
ملک فلک سے پئے سجدہ سر فرو کرتے
نمازِ عشق میں جب ہم ہیں سر فرو کرتے
تو آبِ اشک سے سو بار ہیں وضو کرتے
نہ رُوئے یار سے ہوتی جو نسبتِ کعبہ
تمام عمر بھی عاشق ادھر نہ رُو کرتے
وہ سنتے حضرتِ ناصح کہ پھر نہ بات آتی
جو ترکِ عشق میں کچھ اور گفتگو کرتے
عجب نہیں ہے اگر رفتہ رفتہ گم ہوتے
جو کوئے یار میں ہم دل کی جستجو کرتے
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو بہ رو کرتے
ہم اور بلبل بیتاب گفتگو کرتے
حیدر علی آتشغزلیاتیہ آرزو تھی تجھے گل کے رو بہ رو کرتے
مزہ تھا ہم کو جو لیلیٰ سے دو بہ دو کرتے
کہ گل تمہاری بہاروں میں آرزو کرتے
شیخ محمد ابراہیم ذوقغزلیاتمزہ تھا ہم کو جو لیلیٰ سے دو بہ دو کرتے
مزہ گناہ کا جب تھا کہ با وضو کرتے
بتوں کو سجدہ بھی کرتے تو قبلہ رو کرتے
یاس یگانہ چنگیزیغزلیاتمزہ گناہ کا جب تھا کہ با وضو کرتے
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

