طلب ہیں عشقِ بتاں میں جو آبرو کرتے

Toggle stanza 1
طلب ہیں عشقِ بتاں میں جو آبرو کرتے
1

طلب ہیں عشقِ بتاں میں جو آبرو کرتے

ظفر ہیں آگ سے پانی کی آرزو کرتے

2

اشارا اپنے جو ابرو کا وہ کبھو کرتے

ملک فلک سے پئے سجدہ سر فرو کرتے

3

نمازِ عشق میں جب ہم ہیں سر فرو کرتے

تو آبِ اشک سے سو بار ہیں وضو کرتے

4

نہ رُوئے یار سے ہوتی جو نسبتِ کعبہ

تمام عمر بھی عاشق ادھر نہ رُو کرتے

5

وہ سنتے حضرتِ ناصح کہ پھر نہ بات آتی

جو ترکِ عشق میں کچھ اور گفتگو کرتے

6

عجب نہیں ہے اگر رفتہ رفتہ گم ہوتے

جو کوئے یار میں ہم دل کی جستجو کرتے

Zameen

Poems with the Same Metre and Rhyme

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…