عشق تو مشکل ہے اے دل کون کہتا سہل ہے

Toggle stanza 1
عشق تو مشکل ہے اے دل کون کہتا سہل ہے
1

عشق تو مشکل ہے اے دل کون کہتا سہل ہے

لیک نادانی سے اپنی تو نے سمجھا سہل ہے

2

گر کھلے دل کی گرہ تجھ سے تو ہم جانیں تجھے

اے صبا غنچے کا عقدہ کھول دینا سہل ہے

3

ہمدمو دل کے لگانے میں کہو لگتا ہے کیا

پر چھڑانا اس کا مشکل ہے لگانا سہل ہے

4

گرچہ مشکل ہے بہت میرا علاج درد دل

پر جو تو چاہے تو اے رشک مسیحا سہل ہے

5

ہے بہت دشوار مرنا یہ سنا کرتے تھے ہم

پر جدائی میں تری ہم نے جو دیکھا سہل ہے

6

شمع نے جل کر جلایا بزم میں پروانے کو

بن جلے اپنے جلانا کیا کسی کا سہل ہے

7

عشق کا رستہ سراسر ہے دم شمشیر پر

بوالہوس اس راہ میں رکھنا قدم کیا سہل ہے

8

اے ظفرؔ کچھ ہو سکے تو فکر کر عقبیٰ کا تو

کر نہ دنیا کا تردد کار دنیا سہل ہے

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…