قاروں اٹھا کے سر پہ سنا گنج لے چلا
Toggle stanza 1قاروں اٹھا کے سر پہ سنا گنج لے چلا
11
قاروں اٹھا کے سر پہ سنا گنج لے چلا
دنیا سے کیا بخیل بجز رنج لے چلا
22
منت تھی بوسۂ لب شیریں کہ دل مرا
مجھ کو سوئے مزار شکر گنج لے چلا
33
ساقی سنبھالتا ہے تو جلدی مجھے سنبھال
ورنہ اڑا کے پاں نشۂ بنج لے چلا
44
دوڑا کے ہاتھ چھاتی پہ ہم ان کی یوں پھرے
جیسے کوئی چور آ کے ہو نارنج لے چلا
55
چوسر کا لطف یہ ہے کہ جس وقت پو پڑے
ہم بر چہار بولے تو برپنج لے چلا
66
جس دم ظفرؔ نے پڑھ کے غزل ہاتھ سے رکھی
آنکھوں پہ رکھ ہر ایک سخن سنج لے چلا
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.
Loading…

