قاروں اٹھا کے سر پہ سنا گنج لے چلا

Toggle stanza 1
قاروں اٹھا کے سر پہ سنا گنج لے چلا
1

قاروں اٹھا کے سر پہ سنا گنج لے چلا

دنیا سے کیا بخیل بجز رنج لے چلا

2

منت تھی بوسۂ لب شیریں کہ دل مرا

مجھ کو سوئے مزار شکر گنج لے چلا

3

ساقی سنبھالتا ہے تو جلدی مجھے سنبھال

ورنہ اڑا کے پاں نشۂ بنج لے چلا

4

دوڑا کے ہاتھ چھاتی پہ ہم ان کی یوں پھرے

جیسے کوئی چور آ کے ہو نارنج لے چلا

5

چوسر کا لطف یہ ہے کہ جس وقت پو پڑے

ہم بر چہار بولے تو برپنج لے چلا

6

جس دم ظفرؔ نے پڑھ کے غزل ہاتھ سے رکھی

آنکھوں پہ رکھ ہر ایک سخن سنج لے چلا

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…