ہوا میں پھرتے ہو کیا حرص اور ہوا کے لیے
شاعر: بہادر شاہ ظفرؔ
Toggle stanza 1ہوا میں پھرتے ہو کیا حرص اور ہوا کے لیے
11
ہوا میں پھرتے ہو کیا حرص اور ہوا کے لیے
غرور چھوڑ دو اے غافلو خدا کے لیے
22
گرا دیا ہے ہمیں کس نے چاہ الفت میں
ہم آپ ڈوبے کسی اپنے آشنا کے لیے
33
جہاں میں چاہیئے ایوان و قصر شاہوں کو
یہ ایک گنبد گردوں ہے بس گدا کے لیے
44
وہ آئینہ ہے کہ جس کو ہے حاجت سیماب
اک اضطراب ہے کافی دل صفا کے لیے
55
تپش سے دل کا ہو کیا جانے سینے میں کیا حال
جو تیرے تیر کا روزن نہ ہو ہوا کے لیے
66
طبیب عشق کی دکاں میں ڈھونڈتے پھرتے
یہ دردمند محبت تری دوا کے لیے
77
جو ہاتھ آئے ظفرؔ خاک پائے فخراؔلدین
تو میں رکھوں اسے آنکھوں کے توتیا کے لیے
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

