ہوا میں پھرتے ہو کیا حرص اور ہوا کے لیے

Toggle stanza 1
ہوا میں پھرتے ہو کیا حرص اور ہوا کے لیے
1

ہوا میں پھرتے ہو کیا حرص اور ہوا کے لیے

غرور چھوڑ دو اے غافلو خدا کے لیے

2

گرا دیا ہے ہمیں کس نے چاہ الفت میں

ہم آپ ڈوبے کسی اپنے آشنا کے لیے

3

جہاں میں چاہیئے ایوان و قصر شاہوں کو

یہ ایک گنبد گردوں ہے بس گدا کے لیے

4

وہ آئینہ ہے کہ جس کو ہے حاجت سیماب

اک اضطراب ہے کافی دل صفا کے لیے

5

تپش سے دل کا ہو کیا جانے سینے میں کیا حال

جو تیرے تیر کا روزن نہ ہو ہوا کے لیے

6

طبیب عشق کی دکاں میں ڈھونڈتے پھرتے

یہ دردمند محبت تری دوا کے لیے

7

جو ہاتھ آئے ظفرؔ خاک پائے فخراؔلدین

تو میں رکھوں اسے آنکھوں کے توتیا کے لیے

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…