ہم یہ تو نہیں کہتے کہ غم کہہ نہیں سکتے
Toggle stanza 1ہم یہ تو نہیں کہتے کہ غم کہہ نہیں سکتے
11
ہم یہ تو نہیں کہتے کہ غم کہہ نہیں سکتے
پر جو سبب غم ہے وہ ہم کہہ نہیں سکتے
22
ہم دیکھتے ہیں تم میں خدا جانے بتو کیا
اس بھید کو اللہ کی قسم کہہ نہیں سکتے
33
رسوائے جہاں کرتا ہے رو رو کے ہمیں تو
ہم تجھے کچھ اے دیدۂ نم کہہ نہیں سکتے
44
کیا پوچھتا ہے ہم سے تو اے شوخ ستم گر
جو تو نے کئے ہم پہ ستم کہہ نہیں سکتے
55
ہے صبر جنہیں تلخ کلامی کو تمہاری
شربت ہی بتاتے ہیں سم کہہ نہیں سکتے
66
جب کہتے ہیں کچھ بات رکاوٹ کی ترے ہم
رک جاتا ہے یہ سینہ میں دم کہہ نہیں سکتے
77
اللہ رے ترا رعب کہ احوال دل اپنا
دے دیتے ہیں ہم کر کے رقم کہہ نہیں سکتے
88
طوبائے بہشتی ہے تمہارا قد رعنا
ہم کیونکر کہیں سرو ارم کہہ نہیں سکتے
99
جو ہم پہ شب ہجر میں اس ماہ لقا کے
گزرے ہیں ظفرؔ رنج و الم کہہ نہیں سکتے
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.
Loading…

