ہم یہ تو نہیں کہتے کہ غم کہہ نہیں سکتے

Toggle stanza 1
ہم یہ تو نہیں کہتے کہ غم کہہ نہیں سکتے
1

ہم یہ تو نہیں کہتے کہ غم کہہ نہیں سکتے

پر جو سبب غم ہے وہ ہم کہہ نہیں سکتے

2

ہم دیکھتے ہیں تم میں خدا جانے بتو کیا

اس بھید کو اللہ کی قسم کہہ نہیں سکتے

3

رسوائے جہاں کرتا ہے رو رو کے ہمیں تو

ہم تجھے کچھ اے دیدۂ نم کہہ نہیں سکتے

4

کیا پوچھتا ہے ہم سے تو اے شوخ ستم گر

جو تو نے کئے ہم پہ ستم کہہ نہیں سکتے

5

ہے صبر جنہیں تلخ کلامی کو تمہاری

شربت ہی بتاتے ہیں سم کہہ نہیں سکتے

6

جب کہتے ہیں کچھ بات رکاوٹ کی ترے ہم

رک جاتا ہے یہ سینہ میں دم کہہ نہیں سکتے

7

اللہ رے ترا رعب کہ احوال دل اپنا

دے دیتے ہیں ہم کر کے رقم کہہ نہیں سکتے

8

طوبائے بہشتی ہے تمہارا قد رعنا

ہم کیونکر کہیں سرو ارم کہہ نہیں سکتے

9

جو ہم پہ شب ہجر میں اس ماہ لقا کے

گزرے ہیں ظفرؔ رنج و الم کہہ نہیں سکتے

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…