ہم نے تری خاطر سے دل زار بھی چھوڑا

Toggle stanza 1
ہم نے تری خاطر سے دل زار بھی چھوڑا
1

ہم نے تری خاطر سے دل زار بھی چھوڑا

تو بھی نہ ہوا یار اور اک یار بھی چھوڑا

2

کیا ہوگا رفوگر سے رفو میرا گریبان

اے دست جنوں تو نے نہیں تار بھی چھوڑا

3

دیں دے کے گیا کفر کے بھی کام سے عاشق

تسبیح کے ساتھ اس نے تو زنار بھی چھوڑا

4

گوشہ میں تری چشم سیہ مست کے دل نے

کی جب سے جگہ خانۂ خمار بھی چھوڑا

5

اس سے ہے غریبوں کو تسلی کہ اجل نے

مفلس کو جو مارا تو نہ زردار بھی چھوڑا

6

ٹیڑھے نہ ہو ہم سے رکھو اخلاص تو سیدھا

تم پیار سے رکتے ہو تو لو پیار بھی چھوڑا

7

کیا چھوڑیں اسیران محبت کو وہ جس نے

صدقے میں نہ اک مرغ گرفتار بھی چھوڑا

8

پہنچی مری رسوائی کی کیونکر خبر اس کو

اس شوخ نے تو دیکھنا اخبار بھی چھوڑا

9

کرتا تھا جو یاں آنے کا جھوٹا کبھی اقرار

مدت سے ظفرؔ اس نے وہ اقرار بھی چھوڑا

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…