ہم نے تری خاطر سے دل زار بھی چھوڑا
Toggle stanza 1ہم نے تری خاطر سے دل زار بھی چھوڑا
11
ہم نے تری خاطر سے دل زار بھی چھوڑا
تو بھی نہ ہوا یار اور اک یار بھی چھوڑا
22
کیا ہوگا رفوگر سے رفو میرا گریبان
اے دست جنوں تو نے نہیں تار بھی چھوڑا
33
دیں دے کے گیا کفر کے بھی کام سے عاشق
تسبیح کے ساتھ اس نے تو زنار بھی چھوڑا
44
گوشہ میں تری چشم سیہ مست کے دل نے
کی جب سے جگہ خانۂ خمار بھی چھوڑا
55
اس سے ہے غریبوں کو تسلی کہ اجل نے
مفلس کو جو مارا تو نہ زردار بھی چھوڑا
66
ٹیڑھے نہ ہو ہم سے رکھو اخلاص تو سیدھا
تم پیار سے رکتے ہو تو لو پیار بھی چھوڑا
77
کیا چھوڑیں اسیران محبت کو وہ جس نے
صدقے میں نہ اک مرغ گرفتار بھی چھوڑا
88
پہنچی مری رسوائی کی کیونکر خبر اس کو
اس شوخ نے تو دیکھنا اخبار بھی چھوڑا
99
کرتا تھا جو یاں آنے کا جھوٹا کبھی اقرار
مدت سے ظفرؔ اس نے وہ اقرار بھی چھوڑا
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.
Loading…

