ہجر کے ہاتھ سے اب خاک پڑے جینے میں

Toggle stanza 1
ہجر کے ہاتھ سے اب خاک پڑے جینے میں
1

ہجر کے ہاتھ سے اب خاک پڑے جینے میں

درد اک اور اٹھا آہ نیا سینے میں

2

خون دل پینے سے جو کچھ ہے حلاوت ہم کو

یہ مزا اور کسی کو نہیں مے پینے میں

3

دل کو کس شکل سے اپنے نہ مصفا رکھوں

جلوہ گر یار کی صورت ہے اس آئینے میں

4

اشک و لخت جگر آنکھوں میں نہیں ہیں میرے

ہیں بھرے لعل و گہر عشق کے گنجینے میں

5

شکل آئینہ ظفرؔ سے تو نہ رکھ دل میں خیال

کچھ مزا بھی ہے بھلا جان مری لینے میں

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…