ہجر کے ہاتھ سے اب خاک پڑے جینے میں
Toggle stanza 1ہجر کے ہاتھ سے اب خاک پڑے جینے میں
11
ہجر کے ہاتھ سے اب خاک پڑے جینے میں
درد اک اور اٹھا آہ نیا سینے میں
22
خون دل پینے سے جو کچھ ہے حلاوت ہم کو
یہ مزا اور کسی کو نہیں مے پینے میں
33
دل کو کس شکل سے اپنے نہ مصفا رکھوں
جلوہ گر یار کی صورت ہے اس آئینے میں
44
اشک و لخت جگر آنکھوں میں نہیں ہیں میرے
ہیں بھرے لعل و گہر عشق کے گنجینے میں
55
شکل آئینہ ظفرؔ سے تو نہ رکھ دل میں خیال
کچھ مزا بھی ہے بھلا جان مری لینے میں
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.
Loading…

