حرم کیا دیر کیا دونوں یہ ویراں ہوتے جاتے ہیں

Toggle stanza 1
حرم کیا دیر کیا دونوں یہ ویراں ہوتے جاتے ہیں
1

حرم کیا دیر کیا دونوں یہ ویراں ہوتے جاتے ہیں

تمہارے معتقد گبرو مسلماں ہوتے جاتے ہیں

2

الگ سب سے نظر نیچی خرام آہستہ آہستہ

وہ مجھ کو دفن کر کے اب پشیماں ہوتے جاتے ہیں

3

سوا طفلی سے بھی ہیں بھولی باتیں اب جوانی میں

قیامت ہے کہ دن پر دن وہ ناداں ہوتے جاتے ہیں

4

کہاں سے لاؤں گا خون جگر ان کے کھلانے کو

ہزاروں طرح کے غم دل کے مہماں ہوتے جاتے ہیں

5

خرابی خانہ ہائے عیش کی ہے دور گردوں میں

جو باقی رہ گئے ہیں وہ بھی ویراں ہوتے جاتے ہیں

6

بیاں میں کیا کروں دل کھول کر شوق شہادت کو

ابھی سے آپ تو شمشیر عریاں ہوتے جاتے ہیں

7

غضب کی یاد میں عیاریاں واللہ تم کو بھی

غرض قائل تمہارے ہم تو اے جاں ہوتے جاتے ہیں

8

ادھر ہم سے بھی باتیں آپ کرتے ہیں لگاوٹ کی

ادھر غیروں سے بھی کچھ عہد و پیماں ہوتے جاتے ہیں

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…