حسینوں کے گلے سے لگتی ہے زنجیر سونے کی

Toggle stanza 1
حسینوں کے گلے سے لگتی ہے زنجیر سونے کی
1

حسینوں کے گلے سے لگتی ہے زنجیر سونے کی

نظر آتی ہے کیا چمکی ہوئی تقدیر سونے کی

2

نہ دل آتا ہے قابو میں نہ نیند آتی ہے آنکھوں میں

شب فرقت میں کیوں کر بن پڑے تدبیر سونے کی

3

یہاں بیداریوں سے خون دل آنکھوں میں آتا ہے

گلابی کرتی ہے آنکھوں کو واں تاثیر سونے کی

4

بہت بے چین ہوں نیند آ رہی ہے رات جاتی ہے

خدا کے واسطے جلد اب کرو تدبیر سونے کی

5

یہ زردہ چیز ہے جو ہر جگہ ہے باعث شوکت

سنی ہے عالم بالا میں بھی تعمیر سونے کی

6

ضرورت کیا ہے رکنے کی مرے دل سے نکلتا رہ

ہوس مجھ کو نہیں اے نالۂ شب گیر سونے کی

7

چھپر کھٹ یاں جو سونے کی بنائی اس سے کیا حاصل

کرو اے غافلو کچھ قبر میں تدبیر سونے کی

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…