حسینوں کے گلے سے لگتی ہے زنجیر سونے کی
شاعر: اکبرؔ الہ آبادی
Toggle stanza 1حسینوں کے گلے سے لگتی ہے زنجیر سونے کی
11
حسینوں کے گلے سے لگتی ہے زنجیر سونے کی
نظر آتی ہے کیا چمکی ہوئی تقدیر سونے کی
22
نہ دل آتا ہے قابو میں نہ نیند آتی ہے آنکھوں میں
شب فرقت میں کیوں کر بن پڑے تدبیر سونے کی
33
یہاں بیداریوں سے خون دل آنکھوں میں آتا ہے
گلابی کرتی ہے آنکھوں کو واں تاثیر سونے کی
44
بہت بے چین ہوں نیند آ رہی ہے رات جاتی ہے
خدا کے واسطے جلد اب کرو تدبیر سونے کی
55
یہ زردہ چیز ہے جو ہر جگہ ہے باعث شوکت
سنی ہے عالم بالا میں بھی تعمیر سونے کی
66
ضرورت کیا ہے رکنے کی مرے دل سے نکلتا رہ
ہوس مجھ کو نہیں اے نالۂ شب گیر سونے کی
77
چھپر کھٹ یاں جو سونے کی بنائی اس سے کیا حاصل
کرو اے غافلو کچھ قبر میں تدبیر سونے کی
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

