حال دل میں سنا نہیں سکتا
شاعر: اکبرؔ الہ آبادی
Toggle stanza 1حال دل میں سنا نہیں سکتا
11
حال دل میں سنا نہیں سکتا
لفظ معنیٰ کو پا نہیں سکتا
22
عشق نازک مزاج ہے بے حد
عقل کا بوجھ اٹھا نہیں سکتا
33
ہوش عارف کی ہے یہی پہچان
کہ خودی میں سما نہیں سکتا
44
پونچھ سکتا ہے ہم نشیں آنسو
داغ دل کو مٹا نہیں سکتا
55
مجھ کو حیرت ہے اس کی قدرت پر
الم اس کو گھٹا نہیں سکتا
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

