رباعی شمارهٔ 211
Toggle stanza 1ای دیده ز هر طرف که برخیزد خس
11
ای دیده ز هر طرف که برخیزد خس
طرفهست که جز در تو نیاویزد خس
22
هش دار که تا با تو کم آمیزد خس
زیرا همه آب دیدهها ریزد خس
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

