رباعی شمارهٔ 210

Toggle stanza 1
درد دلم از طبیب بیهوده مپرس
1

درد دلم از طبیب بیهوده مپرس

رنج تنم از حریف آسوده مپرس

2

نالودهٔ پاک را از آلوده مپرس

در بوده همی نگر ز نابوده مپرس

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…