رباعی شمارهٔ 233

Toggle stanza 1
معشوقه دلم به آتش انباشت چو شمع
1

معشوقه دلم به آتش انباشت چو شمع

بر رویم زرد گل بسی کاشت چو شمع

2

تا روز به یک سوختنم داشت چو شمع

پس خیره مرا ز دور بگذاشت چو شمع

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…