رباعی شمارهٔ 233
Toggle stanza 1معشوقه دلم به آتش انباشت چو شمع
11
معشوقه دلم به آتش انباشت چو شمع
بر رویم زرد گل بسی کاشت چو شمع
22
تا روز به یک سوختنم داشت چو شمع
پس خیره مرا ز دور بگذاشت چو شمع
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

