رباعی شمارهٔ 163
Toggle stanza 1یک دم سر زلف خویش پر خم نکند
11
یک دم سر زلف خویش پر خم نکند
تا کار مرا چو زلف درهم نکند
22
خارم نهد و عشق مرا کم نکند
خاری که چنو گل سپر غم نکند
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

