رباعی شمارهٔ 145

شاعر: سنایی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: شباشد

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 4

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
دشنام که از لب تو مهوش باشد
1

دشنام که از لب تو مهوش باشد

دری شمرم کش اصل از آتش باشد

2

نشگفت که دشنام تو دلکش باشد

کان باد که بر گل گذرد خوش باشد

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…